لکھنو ،25 ؍دسمبر(ایس او نیوز؍ائی این ایس انڈیا) الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ ریاست میں امن وامان کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرنا ہمارا آئینی حق ہے۔ آئین کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف درج ایف آئی آر کو خارج کردیا۔
معلومات کے مطابق درخواست گزاریشونت سنگھ نے یو پی کے وزیر اعلی اور ریاست کے امن و امان کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر پر کچھ تبصرے کیے تھے۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ یوپی کے سی ایم نے ریاست کو جنگل راج میں تبدیل کردیا ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا گیا تھا کہ یوپی میں نظم ونسق نہیں ہے۔جس کے بعد یشونت سنگھ کے خلاف 2 اگست 2020 کو کانپور دیہی علاقوں کے بھگنی پور پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کے سیکشن 500 ، ہتک عزت اور 66 ڈی کمپیوٹر ریسورس کا استعمال کرکے دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سماعت کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف ایف آئی آر اور اس سے قبل کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا۔ موصولہ معلومات کے مطابق یہ حکم جسٹس پنکج نقوی اور جسٹس وویک اگروال کی بنچ نے درخواست گزار کے حق میں دیا ہے۔